وزیر اعلیٰ نے قومی شاہراہ پروجیکٹوں پر جاری کام کا جائزہ لیا

0
3467

جموں26اپریل2016
اقتصادی ترقی کے فروغ کے لئے سڑک رابطہ سہولیت کو لازمی قرار دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے آج مختلف ایجنسیوں کے مابین قریبی تال میل قائم کرنے پر زور دیا تاکہ ریاست میں بڑے سڑک پروجیکٹوں پر جاری کام کی رفتار میں سرعت لائی جاسکے ۔
جموں و کشمیر جیسے دشوار گزار اور پہاڑی علاقے میں سڑکوں کی تعمیر ایک مشکل کام قرار دیتے ہوئے، جس کے لئے وزیر اعلیٰ نے مرکز سے سڑک پروجیکٹوں کی معین مدت کے اندر تکمیل میں درپیش رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے مرکز سے عملی تعاون طلب کیا ہے۔انہوں نے کہا ” ٹھیکہ داروں کی پروجیکٹوں کی بروقت تکمیل کی صلاحیت ہمارے لئے کافی اہم ہے۔ “
وزیر اعلیٰ نے ان خیالات کا اظہار آج ریاست میں قومی شاہراہوں پر جاری کام کی رفتار کا جائزہ لینے کے لئے طلب کی گئی اعلیٰ سطحی میٹنگ کے دوران کیا۔
میٹنگ کا انعقاد وزیراعلیٰ کی حال ہی میں نئی دلی میں مرکزی وزیر برائے زمینی ٹرانسپورٹ و شاہراہ نیتن گڈکری کے ساتھ ملاقات کے پس منظر میں کیا گیا تھا۔
وزیر برائے تعمیرات عامہ و پارلیمانی امور اے آر ویری،وزیر برائے صنعت و حرفت چندر پرکاش گنگا، وزیر برائے سائنس و ٹکنالوجی ٹرانسپورٹ و تعمیرات عامہ سنیل شرما، چیف سیکرٹری ، فائنانشل کمشنر منصوبہ بندی و ترقی اوروزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری میٹنگ میں موجو د تھے۔
سڑک پروجیکٹو ں کو مرتب کرتے وقت جغرافیائی معاملات کو ملحوظ نظر رکھنے پر زور دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے وادی کشمیر میں ناموافق موسمی حالات اور امن عامہ کی صورتحال کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ان مسائل سے وادی کے قلیل کام کاج سیزن میں مزید رکاوٹیں پید ا ہوتی ہےں،تاہم انہوں نے جموں میں بھی پروجیکٹوں کی بروقت تکمیل نہ ہونے پر بھی اپنے تشویش کا اظہار کیا جہاں کام کاج کا سیزن کافی طویل اور عمومی حالات بہتر ہےں۔

محبوبہ مفتی نے تمام متعلقہ انتظامی محکموں کو ہدایت دی کہ وہ قریبی تال میل سے کام کر کے تمام رکے پڑے معاملات مرکزی وزرات برائے زمینی ٹرانسپورٹ و ہائی ویز کے ساتھ مل کر حل کریں۔انہوں نے کہا کہ قومی شاہراہوں کے اگلے حصوں پر کام شروع کرنے کے ساتھ ساتھ موجودہ حصوں بالخصوص جموں ۔سرینگر قومی شاہراہ کی دیکھ ریکھ کا خاص خیال رکھا جانا چاہیئے۔
انہوں نے کہا ” سیاحتی سیزن شروع ہوچکا ہے جبکہ امر ناتھ جی یاترا شرو ع ہونے والی ہے اور قومی شاہراہ 44( جموں ۔ سرینگر قومی شاہراہ )کے چند حساس حصوں کی دیکھ ریکھ کافی اہم ہے کیونکہ سڑکوں کی خراب صورتحال کی وجہ سے آئے دن سڑک حادثات رونما ہوتے ہیں۔“
وزیر اعلیٰ کو چند جاری کاموں کا جائزہ پیش کرتے ہوئے سیکرٹری محکمہ تعمیرات عامہ نے کہا کہ اس ضمن میں قریباً 96فیصد اراضی کے حصول کے معاملات مکمل کئے جاچکے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں وزیر اعظم ترقیاتی پیکیج ۔ ٹی اے ایم آئی ای آر کے تحت 12 بڑے سڑک پروجیکٹوں ، 3 ٹنلوں اور جموں اور سرینگر کے دو بڑے شہروں میں رِنگ روڈ پروجیکٹوں کے لئے 42668کروڑ روپے منظور کئے گئے ہیں۔
سیکرٹری تعمیرات عامہ نے مزید کہا کہ کرگل ۔زنسکار،سرینگر۔ شوپیان۔قاضی گنڈ،جموں۔ اکھنو ر۔پونچھ ،چنانی ۔ سدھ مہادیو ۔ گوہا سڑک پروجیکٹ ( جس میں 3کلومیٹر ٹنل بھی شامل ہے) کے علاوہ چار نئے پروجیکٹ 13,300کرو ڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کئے جارہے ہیں۔
اسی طرح زوجیلہ ، لچھولونگا اور تگلانگ دروں پر ٹنلیں 14,900 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کئے جارہے ہیں جس سے لداخ خطے کو بہتر سڑک رابطہ کی سہولیت فراہم ہوگی،اس کے علاوہ 3260کروڑ روپے ٹی اے ایم آئی ای آر کے تحت سرینگر اور جموں کے بڑے شہروں میں نیم دائرہ سڑک پروجیکٹوں پر صرف کئے جارہے ہیں۔
جموں او رسرینگر شہریوں کے لئے رنگ روڈوں کی تعمیر سے متعلق جانکاری دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ کو مطلع کیا گیا کہ مرکزی وزرات برائے زمینی ٹرانسپورٹ و شاہراہ پروجیکٹوں کے لئے رقم فراہم کر رہی ہے جبکہ ریاستی حکومت اراضی کے حصول اور عوامی سہولیات کی منتقلی پر رقم کا 10فیصد صرف کرے گی۔
اس سے قبل مرکزی وزرات برائے زمینی ٹرانسپورٹ و شاہراہ نے اراضی کے حصول اور عوامی سہولیت کی منتقلی کے لئے 75:25کی طرز تجویز کی تھی۔

میٹنگ میں بتایاگیا کہ بٹوٹ۔ کشتواڑ ۔ سنتھن ۔ کھنہ بل سڑ ک کو دو رویا بنایا جارہا ہے،جس کی تعمیر کا کام این ایچ آئی سی ڈی ایل (نیشنل ہائی وے اینڈ انفراسٹراکچر ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمٹیڈ ) کے سپرد کیا گیا ہے۔شاہراہ پر چنانی ۔ سدھ مہادیو۔ گوہا ۔ کھلانی کے حصے کی تعمیرنو اور سنگپور ہ۔ وائیلو سڑک پر ٹنل تعمیر کی جارہی ہے جس کے لئے رقومات کی فراہمی کا معاملہ مرکزی وزارت برائے زمینی ٹرانسپورٹ و شاہراہ کے ساتھ اٹھایا گیا ہے۔
دریں اثنا سڑک کی دیکھ ریکھ کے لئے مرکزی وزارت سے 90کروڑ روپے کی واگذاری متوقع ہے جبکہ سڑک کی مرمت پر پہلے ہی 3کروڑ روپے صرف کئے گئے ہیں۔
دوران میٹنگ وزیر برائے تعمیرات عامہ نے کہا کہ بٹوٹ۔ ڈوڈہ ۔ کشتواڑ سڑک کی موجودہ خستہ حالی کے سبب چنانی ۔ سدھ مہادیو ۔ گوہا ۔ کھلانی خاصی اہمیت حاصل کر چکی ہے۔
وزیرا علیٰ کو بتایا گیا کہ اوڑی ۔ بارہمولہ ۔ سرینگر ۔ کرگل ۔ لیہہ کی نئی قومی شاہراہ کو پرانی قومی شاہراہ 1A کاٹ کر بنایا گیا اور فی الوقت سڑ ک بی آر او کی دیکھ ریکھ میں ہے بجز زیڈ مور اور زوجیلہ ٹنلوں کے جو کہ مرکزی وزارت برائے زمینی ٹرانسپورٹ و شاہراہ کی تحویل ہے۔انہیں بتایا گیا کہ زیڈ مور ٹنل 30اپریل 2020تک 2680.42کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل ہونے کی توقع ہے جبکہ 14کلومیٹر زوجیلہ ٹنل کے لئے 9090کروڑ روپے کے لئے مرکزی وزارت برائے زمینی ٹرانسپور ٹ و شاہراہ نے از سر نو ٹینڈر طلب کیا ہے۔
وزیر اعلیٰ کو مطلع کیا گیا کہ مغل روڈ کو ایک متبادل قومی شاہراہ قرار دے کر جموں اور کشمیر صوبوں کے درمیان سڑک رابطوں کو فروغ دینے کی تجویز متعلقہ مرکزی وزرات کو پہلے ہی بھیج دی گئی ہے۔ متعلقہ وزرات کے حکام نے انہیں بتایاکہ چنانی سے پتنی ٹاپ تک سڑک کے حصے کو ازسر نو تعمیر کیا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ نے جن دیگر شاہراہوں پر جاری کام کا جائزہ لیا ان میں محکمہ تعمیرات عامہ کی جانب سے تعمیر کی جارہی کرگل ۔ زنسکار، بال تل۔ پنجتر نی ۔چندن واڑی ۔ پہلگام ۔بٹہ کوٹ ۔ مارتنڈ ۔ کھنہ بل ،پی ایم جی ایس وائی کے تحت زیر تعمیر بارہمولہ ۔ رفیع آباد۔ کپواڑہ ۔ ٹنگڈار، بی آر و کے تحت لیہہ۔ دبرنگ ۔ ملڈن ۔ منالی سڑکیں شامل ہیں۔
وزیر اعلیٰ کو جموں ۔ سرینگر قومی شاہراہ کی فور لیننگ پر جاری کام کے بارے میں تفصیل دیتے ہوئے سیکرٹری محکمہ تعمیرات عامہ نے بتایا کہ سڑک کے جموں ۔ ادھمپور حصے پر کام قریباً مکمل کیا جاچکا ہے جبکہ چنانی ۔ناشری حصے پر 85فیصد کام مکمل کیا گیا ہے اور پروجیکٹ کے امسال ماہ مئی میں مکمل ہونے کی توقع ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس سے جموں او رسرینگر کے مابین مسافت 30کلومیٹر تک کم ہوجائے گی۔

انہوں نے وزیرا علیٰ کو مزید بتایا کہ سڑک کے ادھمپور ۔ رام بن اور رام بن ۔ بانہال حصے پر کام شروع کیا گیا ہے اور یہ کام 2018 ءتک مکمل ہونے کی توقع ہے۔
مرکزی وزارت برائے زمینی ٹرانسپورٹ و شاہراہ کی جانب سے اُٹھائے گئے اراضی کے حصول کے معاملات کے فوری حل کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ کو مطلع کیا گیا کہ حاصل شدہ 21,677 کنال میں سے 20,843کنال اراضی متعلقہ مرکزی وزارت کی تحویل میں دئیے گئے ہیں جس کے لئے 750.41کروڑ روپے کامعاوضہ بھی ادا کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ میں فی الوقت اراضی کے حصول کے 9معاملات التوا¿میں پڑے ہیں جن کے لئے 190.82کرو ڑ روپے کی اضافی رقم درکار ہے۔
وزیر اعلیٰ نے ڈویژنل کمشنر کو تمام معاملات فوری طور حل کرنے کی ہدایت دی تاکہ پروجیکٹوں پر کام فوری طور شروع کیا جاسکے ۔جموں ۔ سرینگرقومی شاہراہ بالخصوص پتنی ٹاپ ۔ رام بن ۔ بانہال کے حساس حصوں کی تجدید و مرمت کے اہم مسئلے پر وزیراعلیٰ نے متعلقہ تعمیراتی ایجنسی کو ہدایت دی کہ وہ اپنے عملے اور مشنری کو متحرک کر کے سڑک کی بہتر دیکھ ریکھ اور تجدید مرمت یقینی بنائیں۔تاکہ مسافروں کو کسی دقت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
نئی سڑکوں کی تعمیرکے لئے جنگلات کی کٹائی کے معاملات میں سرعت لانے کے معاملے سے متعلق وزیر اعلیٰ کو مطلع کیا گیا ہے کہ ان پروجیکٹوں کے لئے فارسٹری ایڈوائزری کمیٹی کی منظوری بھی حاصل کی گئی ہے جوکہ کابینہ کو پیش کی گئی ہے۔ماحولیات کے تحفظ کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہوئے سیکرٹری محکمہ جنگلات نے کہا کہ جنگلات کو نقصان سے بچانے کے لئے ملبہ جمع کرنے کے لئے موزوں جگہ تلاش کرنی ہوگی۔
بھارت مالا اور بین ریاستی سڑک رابطہ کے تحت شروع کئے گئے پروجیکٹوں کے بارے میں وزیر اعلیٰ کو جانکاری دیتے ہوئے میٹنگ میں بتایا گیا کہ پروجیکٹوں کے لئے ٹینڈر طلب کئے گئے ہیں اور ان پر عنقریب کام شروع ہوگا۔
وزیرا علیٰ نے چیف سیکرٹری کو ہدایت دی کہ وہ محکمہ جاتی رکاوٹوں بالخصوص ٹول پلازہ کے قیام سے متعلق معاملات کو مقررہ مدت کے اندر مکمل کرنے کے لئے متعلقہ محکموں کے مابین قریبی تال میل قائم کریں۔
میٹنگ میں فائنانشل کمشنر مال، پرنسپل سیکرٹری جنگلات، پرنسپل سیکرٹری داخلہ،پرنسپل سیکرٹری بجلی، کمشنر سیکرٹری صنعت و حرفت، کمشنر سیکرٹری محکمہ مال، ڈویژنل کمشنر جموں ، ڈویژنل کمشنر کشمیر،محکمہ تعمیرات عامہ ، پی ایم جی ایس وائی اور مغل روڈ پروجیکٹ کے چیف انجینئراں موجود تھے۔
مرکزی حکومت کی نمائندگی جی ایم ، این ایچ آئی سی ڈی ایل ، ریجنل آفیسر این ایچ اے آئی ، رکن پی پی پی ایم ایچ اے اور بی آر او ، بی آر ٹی ایف، پروجیکٹ سمپرک ، پروجیکٹ بیکن کے اعلیٰ افسران نے کی۔